اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، طائب نے گیارہویں ابوذر فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں اصل مقابلہ لوگوں کے ذہنوں اور دلوں پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کا ہے۔ ان کے بقول، عالمی طاقتیں ہائبرڈ جنگ کے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے عوام کے مفادات اور ان کے ذہنی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوجی جنگ کا مقدمہ ذہنی شکست ہے اور دشمن پہلے لوگوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہوکر حقیقت کے بارے میں ان کی سوچ تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے بعد حملہ کرتا ہے۔
طائب نے میڈیا اور صحافیوں پر زور دیا کہ وہ جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مبینہ جرائم کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور خطے کی حالیہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل نے اپنے بارے میں جو تصویر دنیا کے سامنے پیش کی، وہ انسانی حقوق اور انسانیت سے متعلق ان کے دعووں سے متصادم رہی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران 160 سے زائد بچوں کی ہلاکت بھی ان واقعات میں شامل ہے جنہیں عالمی رائے عامہ کے سامنے بیان کیا جانا چاہیے۔ طائب کے مطابق جنگ کے دوران بننے والی یہ تصاویر تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں اور انہیں مٹایا نہیں جاسکتا۔
طائب نے کہا کہ جس طرح فوجی جنگ میں میزائل اور لانچر استعمال ہوتے ہیں، اسی طرح جنگِ روایت میں میڈیا اور صحافی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے بقول، تصاویر، ویڈیوز، خبروں کی سرخیاں اور رپورٹس بھی اس جنگ کے اہم ذرائع ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ چاہے 40 دن چلے یا 100 دن، ختم ہونے کے بعد بھی اس کی روایت باقی رہتی ہے۔ طائب کے مطابق میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنگ کے واقعات کو درست انداز میں عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ حقائق کو مسخ نہ کیا جاسکے۔
آپ کا تبصرہ